اقلیتوں کے مفادات متاثر ہونے کا خدشہ اقلیتی تعلیمی اداروں اور ماہرین تعلیم سے اعتراضات داخل کرنے کی رحمٰن خان کی اپیل
بنگلورو20؍اگست(ایس او نیوز)سابق مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور ورکن راجیہ سبھا ڈاکٹر کے رحمٰن خان نے آج ملک بھر کے اقلیتی تعلیمی اداروں کے ذمہ داران ، ماہرین تعلیم و سماجی اداروں سے کہا ہے کہ مرکز کی بی جے پی حکومت نے جو نئی تعلیمی پالیسی کا مسودہ تیار کیا ہے اس مسودہ کے سلسلہ میں مشورے اور اعتراضات پیش کرنے کے لئے اب15؍ستمبر تک توسیع کی گئی ہے۔ ضرورت ہے کہ فوری طور پر اقلیتی تعلیمی ادارے ،ماہرین تعلیم و ملی و سماجی ادارہ اس مسودہ کا جائرہ لے کر اپنے مشورے اور اعتراضات مرکزی حکومت کے محکمئہ انسانی وسائل تک پہنچائیں۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ جہاں دیگر اقلیتی تعلیمی اداروں کی جانب سے اب تک بہت سارے اعتراضات اور مشورے مرکز کو روانہ کئے گئے ہیں وہیں اقلیتی طبقہ نے بہت کم اس جانب توجہ دی ہے اور میمورنڈم و اعتراضات پیش کئے ہیں۔ ڈاکٹر رحمٰن خان نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی کا جو ڈرافٹ تیار ہو کر سامنے آیا ہے اس میں آر ایس ایس کے نظریات کو بڑے پیمانہ پر شامل کیا گیا ہے۔ جس سے اقلیتوں کے مفادات متاثر ہونے کا خدشہ لاحق ہے۔ اس سلسلہ میں پچھلے دنوں انہوں نے راجیہ سبھا میں آواز اٹھائی تھی جس کے جواب میں مرکزی وزیر تعلیم و انسانی وسائل نے پارلیمان کو یقین دلایا کہ ان کی حکومت نئی تعلیمی پالیسی بنانے کے دوران اقلیتی مفادات کو متاثر ہونے نہیں دے گی۔ انہوں نے حکومت سے کہا تھا کہ ملک میں نئی تعلیمی پالیسی مرتب کرنے کے دوران تمام طبقات کے مفادات اور ملک میں تعلیمی شعبہ کے لئے بیش بہا خدمات انجام دینے میں ملک کی آزادی کے بعد منصوبے مرتب کرنے والے سر سید احمد خان، ڈاکٹرذاکرحسین، مولاناابولکلام آزاد جیسی شخصیات کے نظریات اور منصوبوں کو نہ سڑف بحال رکھے بلکہ ان کی خدمات کا بھی اعتراف کرے۔ مولاناابوالکلام آزادؒ ملک کے پہلے وزیر تعلیم رہے ہیں اور ملک میں انہیں تعلیمی پالیسی کا معمار قرار دیا جاتا ہے۔ اس موقع پر رحمٰن خان نے مزید کہا کہ بقر عید قریب ہے ریاست میں اور ملک بھر میں گئورکشا کے نام پر نام نہاد تنظیمیں جنہیں فرقہ پرست طاقتوں کی سرپرستی حاصل ہے۔ دلتوں اور اقلیتوں پر مظالم ڈھارہے ہیں۔ گزشتہ سال بھی بقرعید سے قبل اخلاق کے معاملہ کو لے کر ملک کی فضائ بگاڑی گئی تھی۔ کرناٹک کے ساحلی علاقوں میں خود ساختہ گئورکشکوں کے حوصلے اس قدر بلند ہوگئے ہیں کہ وہ اب قتل وغارت گری پر اتر آئے ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے آج ریاست کے وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ کو مکتوب روانہ کیا ہے کہ وہ ریاست میں ایسی طاقتوں کے خلاف کارروائی کرے اور اقلیتوں اور دلتوں کو تحفظ فراہم کرے اور بقرعید کے موقع پر ریاست کے ماحول کو بگڑنے نہ دینے ہر ممکن اقدامات کرے۔